اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا :. نیوی پیلی Navanethem Pillay یا Navi Pillay کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے والد بس ڈرائیور تھے اور خود محروم طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور آپارتھائیڈ اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد بھی کرچکی ہیں لیکن آج کل وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی ہائی کمشنر ہیں اور اب ان کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ امریکہ اور ویٹوپاورز کی خدمت پر مأمور ہے چنانچہ نیوی پیلے بھی اسی پالیسی پر کاربند ہیں۔امریکہ اور مغربی قوتوں کو جن پر اعتراض ہوتا ہے ان پر نیوی پیلے کو بھی اعتراض ہوتا ہے اور امریکہ اور مغرب جس کو انسانیت کا مذاق اڑانے کا فری ہینڈ دیتا ہے نیوی پیلے بھی مسکرا کر گذرتی ہیں۔سوڈانی صدر عمر البشیر چین گئے تو امریکہ نے تنقید کی کہ چین نے عمرالبشیر کو پکڑا کیوں نہیں کیونکہ نیوی پیلے والے کمیشن نے امریکہ ہی کہ کہنے پر انہیں دارفر میں مبینہ قتل عام کا مطلوبہ ملزم قرار دیا ہے اور نیوی پیلے بھی امریکی وزارت خارجہ کے قوالوں کے ساتھ ہمنوائی کرتے ہوئے چیخی ہیں کہ ان پیلے رنگ کے چینیوں نے البشیر کو گرفتار کیون نہیں کیا۔نیوی پیلی کو لیبیا میں نیٹو کے حملے کے زمانے سے صرف ایک بار کہیں قذافی کے ہاتھوں انقلابی عوام پر کیمیاوی گیس کے استعمال پر تنقید کرنے کا موقع میسر آیا ہے اور یمن میں آل سعود و اسرائیل اور امریکی سازشیں اور سینکڑوں یمنیوں کا قتل عام اور عوام کی طرف سے اپنی مرضی کی حکومت کے قیام کے مطالبات کبھی نظر نہیں آئے اور ان کے ہاں یمن کے بارے میں کچھ کہنے کی ابھی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ حالات ابھی تک امریکہ اور اسرائیل کے فائدے میں جارہے ہیں۔شام میں سلفیوں کی بغاوت ہے جس کو سعودیوں اور یہودیوں کی اعلانیہ حمایت حاصل ہے اور فرانس و برطانیہ اور امریکہ بھی باغیوں کی مدد کررہے ہیں اور شامی عوام نے بھی حکومت کی حمایت کرکے اس بغاوت کی حقیقت کھول دی ہے اور بندر بن سلطان کی سازشیں بھی طشت از بام ہوگئی ہیں لیکن نیوی پیلے نے یہاں بھی یہود و سعود و نصاری کی ہاں میں ہاں ملا کر شام کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ عوام ـ یعنی ان ہی دہشت گردوں ـ کا قتل بند کردے لیکن نیوی پیلے کو بحرین کبھی بھی نظر نہیں آیا۔بیرون ملک مقیم بحرینی سیاستدانوں اور قانوندانوں نے بھرپور کوششیں کرکے بحرین کے آل خلیفہ خاندان کو کسی حدتک رسوا کیا تو نیوی پیلے نے آل خلیفہ خاندان کو بچانے کے لئے زبانی اعلان کیا کہ وہ بہت جلد ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کررہی ہیں تا کہ وہاں کی صحیح صورت حال معلوم ہوسکے۔نیوی پیلے نے اس بات کی اطلاع سب سے پہلے آل خلیفہ حکومت کو دی اور یوں آل خلیفہ نے تیاری کرکے کچھ ہی دن بعد اعلان کیا کہ بادشاہ نے اندرونی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو عوام کی شکایات کا ازالہ کرے گی۔نیوی پیلے تو پڑھی لکھی خاتون ہیں مجھ جیسا ان پڑھ شخص بھی سمجھتا ہے کہ خلیفی بادشاہ نے اپنے عوام کا قتل عام کیا ہے، انہیں ٹارچر کیا ہے، انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کررکھا ہے ان کی بے حرمتی کی ہے اور ان پر بیرونی افواج اور کرائے کے غنڈے مسلط کئے ہیں، ان کے سیاسی حقوق چھین لئے ہیں انہیں کام اور روزگار سے محروم کررکھا ہے اور ہر روز ہزاروں سعودیوں، شامیوں، اردنیوں، عراقی بعثیوں اور پاکستانیوں اور یمنیوں کو شہریت دے رہی ہے تا کہ اس طرح شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہی حکومت اپنی تشکیل کردہ ٹیم کو اپنے خلاف تحقیقات کی اجازت دے؟ لیکن نیوی پیلے نے ان کی بات مان لی اور امریکی مفادات کے اس چھوٹے سے محافظ کے سامنے مسکرالیں اور عرض کیا "ٹھیک ہے بادشاہ سلامت؛ آپ جب خود اپنے خلاف تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن کس کھیت کی مولی ہے؟ آپ اپنا کام اپنی مرضی کے مطابق کریں ہم بھی اپنی ٹیم بھجوانے کا وعدہ بھول جاتے ہیں اور وہ بھول گئیںنیوی پیلے بھول جانا چاہتی ہیں لیکن ہم انہیں یہ وعدہ نہیں بھولنے دیں گے اور ان کو ہزاروں لاکھوں ایمیل اور وال میسج دیں گے اور انہیں بحرین میں ایک غیر جانبدار ٹیم بھجوانے پر مجبور کریں گے یہ لیں آپ بھی کلک کریں اور پیغام دیں:
فیس بک پر نیوی پیلے کا ذاتی پیجCLICK
یا پھر ایمیل میسج روانہ کریں:
یا پھر ٹیلی فون کریں:
0041229179220